
معروف سیاستدان ،شاعر، ادیب اجمل خان خٹک کی تیسری برسی 7فروری کو منائی گئی۔ ۔ وہ 1924میں اکوڑہ خٹک کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد حکمت خان بھی قومی کاموں میں پیش پیش رہتے تھے۔ مڈل پاس کرنے کے بعد معلمی کاپیشہ اختیار کیا۔ وہ ملازمت کے ساتھ ساتھ علمی استعداد بھی بڑھاتے رہے ۔ منشی فاضل ، ایف اے اور بی اے کے امتحانات پاس کیے۔ ریڈیو پاکستان پشاور سے بطور سکرپٹ رائٹر وابستہ رہے۔ کافی عرصہ روزنامہ انجام پشاور کے ایڈیٹر بھی رہے۔
اجمل خٹک صوبائی خود مختاری کے حق میں تھے ۔انہوں نے کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں بھی بر داشت کیں۔ خان عبدالولی خان کی صدارت میں نیشنل عوامی پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنے۔ وہ کچھ عرصہ جلاوطن بھی رہے لیکن سویت یونین کی تحلیل اور افغانستان میں اس کی شکست کے بعد اپریل 1989 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے عہد میں واپس پاکستان آئے اور یہاں کی سیاست میں حصہ لیناشروع کر دیا۔ 1990 تا 1993 قومی اسمبلی کے رکن رہے۔ مارچ 1994 میں 6 سال کے لیے صوبہ سرحد سے سینٹ کے رکن منتخب ہوئے ۔
بطور شاعر و ادیب اجمل خٹک ترقی پسند تحریک سے متاثر ہیں۔ پشتو اور اردو، دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے ۔ ان کے پشتو کلام کے بھی مجموعے ہیں اور اردو شاعری کے بھی۔ جلاوطن کی شاعری بھی ان کا مجموعہ کلام ہے جس میں افغانستان کے دوران جلا وطنی کے احساسات و جذبات کی عکاسی کی گئی ہے۔
اجمل خٹک طویل عرصہ علیل رہنے کے بعد7 فروری 2010 کو پشاور کے ایک مقامی ہسپتال میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ کافی عرصہ سیاست سے کنارہ کش رہے اور آخری ایام انھوں نے اپنے آبائی گائوں اکوڑہ خٹک میں گذارے۔ اکوڑہ خٹک میں ہی انھیں سپردخاک کیا گیا۔ ان کی عمر 85 برس تھی۔

مقبول ترین خبریں