



برطانیہ اور پاکستان خصوصی رشتے میں منسلک ہیں، ہمارے باہمی تعلقات احترام کی بنیاد پر ہیں، دونوں ممالک مختلف معاملات پر ایک دوسرے کے موقف کو سمجھتے ہیں، برطانیہ کے وزیراعظم کیمرون منٹر نے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کے حوالے سے خصوصی کردار ادا کیا جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں اضافہ ہو
وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کی برطانوی پارلیمنٹ میں بیرونس سیدہ وارثی اور کنزر ویٹو پارٹی کے منتخب ارکان سے بات چیت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ برطانیہ اور پاکستان خصوصی رشتے میں منسلک ہیں، ہمارے باہمی تعلقات احترام کی بنیاد پر ہیں، دونوں ممالک مختلف معاملات پر ایک دوسرے کے موقف کو سمجھتے ہیں، برطانیہ کے وزیراعظم کیمرون منٹر نے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کے حوالے سے خصوصی کردار ادا کیا جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں اضافہ ہوا۔ بدھ کو یہاں برطانوی پارلیمنٹ میں بیرونس سیدہ وارثی اور کنزر ویٹو پارٹی کے منتخب ارکان سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ برطانیہ اور برطانیہ کے اعلیٰ حکام سے بات چیت بہت تعمیر ی اور مثبت رہی جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے عمل کو فروغ ملے گا۔ خطے میں سیکورٹی کی صورتحال پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام چاہتا ہے اور اس کوشش میں مصروف ہے کہ جلد از جلد افغانستان سے غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہو جائے۔ تنازعات کے حل کے تناظر میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سطح اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں مقرر کردہ اصولوں کا ہر وقت احترام کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے امن اور استحکام کو یقینی بنانے کیلئے اتحادی جماعتوں اور شراکت داروں کے درمیان بہتر تفہیم پیدا کرنے اور مثبت پیغام رسانی کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے پاکستان کے داخلی اور سیاسی، سماجی اور اقتصادی حالت سے بھی پارلیمنٹرین کو آگاہ کیا۔ ان امور پر جاری پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہورہی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو درپیش چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بجلی کی قلت اورغیر ممالک میں پاکستان کا مثبت تاثر دو بڑے ایشو ہیں جن کی وجہ سے دنیا بھر میں موجود پاکستانی عوام اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس موقع پر بیرونس سیعدہ وارثی سمیت وفد کے ارکان نے مختلف قومی ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر پاکستان کے نقطہ نظر کی وضاحت کرنے پر وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کے مثبت تشخص کو ابھارنے کیلئے مختلف شعبوں میں پاکستانیوں کی شراکت کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی کلچر اور دستکاری کو فروغ دیا جائے۔ اس ملاقات میں برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر اور سفارتخانے کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان پرامن اور خودمختار افغانستان چاہتا ہے، پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کر رہا ہے۔وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا لندن میں ''رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز'' میں خطاب
وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان پرامن اور خودمختار افغانستان چاہتا ہے، پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کر رہا ہے جس کی ہم نے بھاری مالی اور اقتصادی قیمت چکائی ہے، خطے میں امن واستحکام کیلئے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں، بھارت سے مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کے حل کیلئے بلاتعطل مذاکراتی عمل جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ عالمی برادری سے امداد نہیں تجارت چاہتے ہیں۔ بدھ کو لندن میں ''رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز'' میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمسائے تبدیل کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کی خواہش رکھتا ہے بلکہ ہمیں اپنے ہمسایہ ممالک پر فخر ہے۔ پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ خطے کے عوام کو تعمیر وترقی کے عمل سے دور نہیں رکھا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام ہمسایہ ممالک سے تعلقات کے بارے میں اپنی پالیسی میں تبدیلی لارہے ہیں۔ پاکستان میں قیام امن کیلئے افغانستان میں امن واستحکام ضروری ہے۔ پاکستان افغانستان کی قیادت میں ہونے والے مفاہمتی عمل کی حمایت کرتا ہے تاہم پاکستان افغانستان کی حمایت کے بغیر کسی بھی امن عمل کی حمایت نہیں کریگا۔ پاکستان پرامن اور خودمختار افغانستان چاہتا ہے جس پر افغان عوام کی حکمرانی ہو۔ پاکستان نے افغانستان کو فری ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت دے رکھی ہے۔ 30 لاکھ افغانیوں کو پناہ دی۔ افغانستان میں انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے 300 ملین ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ افغانستان کا ہمسایہ ہونے کے ناطے پاکستان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی امن فوج میں پاکستان دوسرا بڑا شراکت دار ملک ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ عالمی برادری پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے گا کیونکہ ہم دنیا سمیت خطے میں امن واستحکام چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی قومی مفاد اور عوامی خواہشات کی عکاس ہے۔ پاکستان امن واستحکام چاہتا ہے اس کیلئے مذاکرات کی پالیسی کا حامی ہے۔ مذاکرات کے ذریعے تمام عالمی مسائل حل کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہورہی ہے۔خطے کے دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان بھی اپنے عوام کی ترقی اپنے عوام کی ترقی اور خوشحالی چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات معمول کی طرف آرہے ہیں۔ ہم مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کے حل کیلئے بلاتعطل مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم عالمی برادری سے امداد کی بجائے تجارت چاہتے ہیں۔ انہوں نے یورپی یونین کی مارکیٹوں میں پاکستانی مصنوعات کو رسائی دینے کیلئے خصوصی پیکج کو خوش آئند قرار دیا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے شرکاء کے سوالات کے جواب بھی دیئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے خطاب
پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ برطانیہ اور پاکستان نے معیشت ، تجارت، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔ بدھ کو یہاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ برطانیہ، پاکستان کے منفی اور بگڑے ہوئے تشخص کو بہتر بنانے کی کوششوں سے متعلق ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی اور ''کیتھم ہائوس'' میں میرے خطاب کا مقصد بھی ''پبلک ڈپلومیسی'' کو آگے بڑھانا تھا جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی سفارتکاری دنیا کے اہم ممالک میں پاکستان کو بہتری کی طرف لے جاسکتی ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر پاکستانی برادری پر زور دیا کہ پاکستان کے تشخص کو مثبت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ وزیر خارجہ نے اپنی سرکاری مصروفیات سے متعلق کہا کہ ان کی تمام ملاقاتیں کامیاب رہیں۔ برطانیہ کے ساتھ تعلقات پر اظہار خیال کرتے ہئے انہوں نے کہا کہ ان میں اب مزید استحکام آئے گا اور توقع ہے کہ آئندہ سال برطانیہ خصوصی طور پر پاکستان کے تعلیمی شعبہ کیلئے بھاری امداد فراہم کریگا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم مئی 2012ء میں برطانیہ کا دورہ کریںگے اور ان کے دورے سے قبل ''پاک یوکے تجارت'' اور سرمایہ کاری سے متعلق روڈ میپ تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے وزیراعظم پہلے ہی دوطرفہ تجارت کے حجم کو سال 2015ء تک 2.5 ارب پائونڈ تک لے جانے پر اتفاق کرچکے ہیں۔ افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے نہ صرف پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا ہے بلکہ پاکستانی موقف کی حمایت کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان مفاہمتی عمل افغانستان کی عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ پاکستان اور امریکی تعلقات پر کیے جانے والے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ امریکہ کے ساتھ تعاون کے حوالے سے غور وخوض کر چکی ہے جس سے پاکستان کی ساکھ اوردوطرفہ تعلقات میں شفافیت کو تقویب ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں پرامید ہوں کہ امریکہ سے مستقبل کے حوالے سے تعلقات بہتر رہیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاملات پر بات چیت کیلئے پاکستان ہر قسم کی مدد کرے گا اور ایران پر کسی طرح کا حملہ خطے کی صورتحال کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

مقبول ترین خبریں
خصوصی فیچر